بنگلورو۔یکم اگست(عبد الحلیم منصور/ایس او نیوز) مہادائی ٹریبونل کی طرف سے کرناٹک کے خلاف فیصلے پر احتجاج کیلئے کرناٹک بند کے دوران نرگند کے یمنور اور دیگر مقامات پر بے قصور افراد پر پولیس کی زیادتیوں اور مبینہ حملوں کی جانچ شروع ہوچکی ہے۔ ریاستی ریزرو پولیس کے اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل کمل پنت کی قیادت میں اس معاملے کی جانچ کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس معاملہ کی جانچ کیلئے کل سے ہی کمل پنت نول گند میں قیام کررہے ہیں۔ 100 سے زائد بے قصور خواتین اور معمر افراد جو پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں ،ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف سے دی جانے والی تفصیلات اور ان لوگوں کے زخموں کی وجوہات کی نشاندہی کے ساتھ خاطی پولیس والوں کے خلاف کارروائی کی تجویز کی جائے گی ۔ احتجاج کے دوران مقامی پولیس سب انسپکٹر کی عوام کی طرف سے پٹائی کردئے جانے کے سلسلے میں پولیس والوں نے جو بیان درج کروایا ہے اس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی سے پہلے کچھ شرپسندوں نے یمنور میں پولیس کی بس کو آگ لگادی ، جس کی وجہ سے پولیس کو تشدد پر قابو پانے کیلئے یہ کارروائی انجام دینی پڑی۔ تاہم پولیس حکام نے مقامی پولیس کے اس استدلال کو یکسر مسترد کردیااور واضح طور پر کہاکہ ویڈیو کلپنگ میں جس طرح پولیس جوانوں نے بے قصور افراد کو چن چن کر مارا ہے اس سے نہیں لگتا کہ تشدد پر قابو پانے کیلئے ایسی کوئی کارروائی کی گئی ہو۔ مسٹر کمل پنت نے بتایاکہ ابتدائی جانچ سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ پولیس جوانوں نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے بے قصور لوگوں پر حملہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں مزید گواہوں کے بیانات لئے جائیں گے۔ یہ بھی پتہ لگایا جاچکا ہے کہ احتجاجیوں پر اندھادھند لاٹھی چارج کرنے کیلئے نول گند کے کس آفسر نے حکم صادر کیاتھا۔اس آفیسر کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کرنے پر غور کیاجارہاہے۔ اس دوران دھارواڑ کے نول گند اور نرگند ٹاؤن میں ان واقعات کے بعد حالات اب معمول پر آچکے ہیں۔ بعض زخمیوں کا علاج اسپتال میں جاری ہے۔ ان علاقوں میں پولیس کا معقول بندوبست بھی برقرار رکھا گیا ہے۔